تصوف کی اہمیت (تصوف: دل کی محبت، روح کی پاکیزگی اور احسان کی راہ)




تصوف کی اہمیت:

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف ظاہری اعمال تک محدود ہے یا اس میں دل کا اخلاص اور باطنی کیفیت بھی ضروری ہے؟ کیا ہماری نماز، روزہ اور دیگر عبادات میں وہ روح موجود ہے جو انہیں اللہ کے ہاں قبول کرائے؟

حدیث کی کتابوں میں ایک حدیث ”حدیث جبریل“ کے نام سے مشہور ہے، اس میں ہے کہ ایک دن جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کچھ سوالات کیے۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ: ”احسان یہ ہے کہ تم خدا کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم خدا کو دیکھ رہے ہو، بھلا اگر تم خدا کو دیکھ نہیں رہے، تو کم سے کم یہ یقین کر لو کہ وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔“

بندہ کے دل میں اسی احسان کی کیفیت پیدا کرنے کا صوفیا کی زبان میں دوسرا نام تصوف یا سلوک ہے۔ تصوف دراصل بندہ کے دل میں یہی یقین اور اخلاص پیدا کرتا ہے۔ تصوف مذہب سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ مذہب کی روح ہے۔ جس طرح جسم روح کے بغیر مردہ لاش ہے، اسی طرح اللہ کی عبادت بغیر اخلاص کے بے قدر و قیمت ہے۔

تصوف بندہ کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے۔ اور خدا کی محبت بندہ کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خلق خدا کے ساتھ محبت کرے، کیوں کہ صوفی کی نظر میں خلق خدا، خدا کا عیال ہے۔ اور کسی کے عیال کے ساتھ بھلائی عیال دار کے ساتھ بھلائی شمار ہوتی ہے۔ خدا کی ذات کی محبت بندہ کو خدا کی نافرمانی سے روکتی ہے اور بندگانِ خدا کی محبت بندہ کو ان کے حقوق غصب کرنے سے روکتی ہے۔ اس لیے صوفیا حضرات کی زندگی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے گزرتی ہے۔
ظاہر ہے کہ جو چیز انسان کو اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بنائے اور اس کے بندوں کا خیر خواہ بنائے، اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔


تصوف کے غلط فہم کا ازالہ:

بعض لوگ تصوف کو شریعت سے الگ یا اس کے مخالف سمجھتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تصوف شریعت کی تکمیل ہے۔ یہ ظاہری احکام کی پابندی کے ساتھ ساتھ باطنی پاکیزگی اور اخلاص کا نام ہے۔


قرآنی بنیاد:

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ”أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ“ یعنی ”خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔“ تصوف کا اصل مقصد بھی یہی ذکرِ الٰہی اور قلبی سکون ہے۔
تصوف اور اہل تصوف کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں میں سے چھ کروڑ یقیناً اہل تصوف کے فیوض و برکات کا نتیجہ ہیں۔ اہل تصوف خصوصاً ہندوستان کے صوفیائے عظام نے اسلام کو وہ رونق بخشی کہ بجائے تیر و تلوار کے محض حسنِ عمل اور اخلاقِ محمدی کے ذریعے اس کی اشاعت ہوئی۔
تصوف دراصل وہ رہنما ہے جو سالک کو ہر آن باخبر رکھتا ہے کہ دیکھنا کہیں مقصود نگاہ سے اوجھل نہ ہو جائے۔ وہ ہدایت کرتا ہے کہ جب تو بارگاہِ خداوندی میں نماز کے لیے کھڑا ہو اور یہ دیکھے کہ قبلہ رو ہے یا نہیں، جائے نماز اور کپڑے پاک ہیں یا نہیں، تو اسی کے ساتھ یہ بھی دیکھ کہ تیرا تصور پاک ہے یا نہیں، دل مالک کائنات کی طرف ہے یا نہیں۔ غرض تصوف ہر ہر قدم پر سالک کو خبردار رکھتا ہے کہ مقصود اصلی خدائے ذوالجلال والاکرام کے خیال سے دل غافل نہ ہونے پائے۔
ایک مرتبہ امام احمد بن حنبل کے تلامذہ نے ان سے سوال کیا کہ آپ بشر حافی کے پاس کیوں جاتے ہیں؟ وہ تو عالم و محدث نہیں ہیں؟ تو امام صاحب نے فرمایا کہ میں کتاب اللہ سے واقف ہوں مگر بشر اللہ سے واقف ہیں۔


عارف ہندی اکبر الہ آبادی مرحوم نے بہت خوب کہا ہے:
" قرآن رہے  پیش نظر ، یہ ہے شریعت
اللہ رہے  پیش نظر ، یہ ہے طریقت "

اگر شیخ سے بیعت ہونے کے بعد کوئی کیفیت محسوس نہ ہو، شریعت پر چلنے  کا شوق   پیدا نہ ہو، گناہ نہ چھوٹیں، نیکی کی رغبت نہ ہو اور بری صحبتیں نہ چھوٹیں تو پھر اجازت لے کر دوسرے شیخ سے بیعت ہوں، کیونکہ حصول کا مدار بزرگی شیخ پر نہیں بلکہ مناسبت طبع پر ہے۔ جب استاد و شاگرد اور پیر و مرید کے درمیان مناسبت ہو تو پھر فیض حاصل ہوتا ہے۔
مثالیں

تصوف کی عملی برکت  کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت معین الدین چشتی، حضرت بابا فرید گنج شکر اور امام غزالی جیسے عظیم صوفیاء نے لاکھوں لوگوں کے دلوں کو اللہ کی طرف موڑا اور اخلاقی اصلاح کی۔ ان کی تعلیمات آج بھی لاکھوں مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔

پچھلے دو (2) بلاگس اور آج کے بلاگ  کا مختصر خلاصہ :

تصوف کی تعریف، اس کی اہمیت اور احسان کی کیفیت 

تصوف کی تعریف :لغوی اور اصطلاحی طور پر:
تصوف کا لفظ مختلف اشتقاقات سے منسوب کیا جاتا ہے.لغوی طور پر یہ ”صوف“ (اون) سے نکلا ہے، یعنی اون کا لباس پہننے والے زاہدین بعض کے نزدیک یہ ”صفا“ سے ہے، یعنی دل کی پاکیزگی اور صفائی اصطلاحی طور پر تصوف تزکیۂ نفس، احسان اور باطنی پاکیزگی کا نام ہے۔
علمائے کرام نے اس کی خوبصورت تعریفیں کی ہیں جنید بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تصوف اللہ کے ساتھ صفاء معاملہ اور دنیا سے بے رغبتی کا نام ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے تصوف کو شریعت کے باطنی اعمال سے تعبیر کیا، جو ظاہری فقہ کی تکمیل کرتا ہے۔ بعض حضرات نے اسے ”اچھے اخلاق“ کا دوسرا نام بھی کہا ہے۔ خلاصہ یہ کہ تصوف دل کی کدورت دور کر کے اللہ کی محبت اور اخلاص  پیدا کرنے کا نام ہے۔

اصطلاحی طور پر تصوف تزکیۂ نفس، احسان اور باطنی پاکیزگی کا نام ہے۔
علمائے کرام نے اس کی خوبصورت تعریفیں کی ہیں،حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تصوف اللہ کے ساتھ صفاء معاملہ اور دنیا سے بے رغبتی کا نام ہے،امام غزالی رحمہ اللہ نے تصوف کو شریعت کے باطنی اعمال سے تعبیر کیا، جو ظاہری فقہ کی تکمیل کرتا ہے، بعض حضرات نے اسے ”اچھے اخلاق“ کا دوسرا نام بھی کہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ تصوف دل کی کدورت دور کر کے اللہ کی محبت اور اخلاص پیدا کرنے کا نام ہے۔

تصوف کی اہمیت
تصوف کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ انسان کو ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی انقلاب سے نوازتا ہے۔ یہ اللہ کی ذات کی محبت پیدا کرتا ہے، جو بندے کو گناہ سے روکتی ہے اور خلق خدا کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دیتی ہے۔ بغیر تصوف کے شریعت صرف جسم کی مشق بن جاتی ہے، جبکہ تصوف اسے روح بخشتا ہے۔
یہ تینوں پہلو  تصوف کی تعریف، اس کی اہمیت اور احسان کی کیفیت آپس میں گہرا ربط رکھتے ہیں۔ تعریف بتاتی ہے کہ تصوف کیا ہے، اہمیت بتاتی ہے کہ یہ کیوں ضروری ہے، اور حدیث جبریل کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اصل مقصد احسان کی کیفیت ہے جسے تصوف حاصل کرتا ہے۔
یہاں تک ہم نے تصوف کی تعریف، اس کی اہمیت اور احسان کی بنیاد پر تفصیل سے بات کی۔

اب آگے کی گفتگو بیعت کے بارے میں ہوگی وہ مقدس اور روحانی رشتہ جو سالک کو شیخِ کامل کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے جوڑتا ہے۔ بیعت تصوف کے عملی سفر کا آغاز ہے، جس میں مرید اپنے شیخ کے ہاتھ پر اللہ کی اطاعت، شریعت کی پابندی اور باطنی اصلاح کا عہد کرتا ہے۔
کیا بیعت صرف ایک رسمی عمل ہے یا اس کے پیچھے گہری شرعی، تاریخی اور روحانی حقیقت چھپی ہے؟ بیعت کی حقیقت، اس کی اقسام، شرعی حیثیت، مشاہیر کا طریقہ اور آج کے دور میں اس کی اہمیت کیا ہے؟
ان شاء اللہ کل سے ہم بیعت کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔ اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے بلاگ فالو کریں اور اپنے خیالات ضرور شیئر کریں۔
اب آپ کے نزدیک تصوف کی سب سے اہم بات کیا ہے؟ کیا یہ اللہ کی محبت ہے، دل کی پاکیزگی ہے، یا شریعت اور طریقت کا امتزاج؟ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔


 

Post a Comment

Previous Post Next Post

Search This Blog