تصوف پر عام سوالات اور جوابات – حصہ سوم (آخری حصہ)
تعارف:
پچھلے دو حصوں میں تصوف کے بنیادی مفہوم، اس کی اہمیت اور چند اہم سوالات کے جوابات پیش کیے گئے تھے۔ اس آخری حصے میں تصوف سے متعلق مزید عام غلط فہمیوں اور سوالات کے واضح اور شرعی جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔ امید
ہے کہ قارئین کو اس سے تصوف کی حقیقت سمجھنے میں مدد ملے گی۔
سوال نمبر 6:
لفظ صوفی ایک یونانی لفظ "سوفوس" کی نقل ہے اور یہ نظریہ یونان سے درآمد شدہ ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں؟
جواب:
صوفی کے لفظ کی تحقیق میں یہ بات تفصیل سے عرض کی گئی ہے کہ صوفی کس سے مشتق ہے۔ اس لفظ کی ابتدا کس طرح ہوئی۔ مزید یہ بھی ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ اسلامی انسائیکلو پیڈیا کی تحقیق کے مطابق خود یونان میں استعمال ہونے والی قدیم زبان میں کوئی ایسا لفظ موجود نہیں جس میں اور لفظ صوفی میں کوئی قدر مشترک ہو۔
سوال نمبر 7:
عام طور پر اپنے آپ کو صوفی بتانے والوں کے کردار اور بعض باتوں کی طرف نگاہ کرنے سے سامنے آتا ہے کہ ان باتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، تو پھر ایسے لوگوں کے طریقے کو کس طرح صحیح جانا جائے؟
جواب:
کسی شخص کی ذاتی بری حرکتوں کی وجہ سے کسی نظریہ کو غلط کہنا اہلِ مرکب کے مترادف ہے۔ آج کل عموماً مسلمانوں کے کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، مثلاً چوری، ڈاکہ زنی، قتل، خونریزی وغیرہ۔ تو کیا بعض مسلمانوں کے غلط اعمال کی وجہ سے اسلام کو برا بھلا کہا جائے گا؟ معاذاللہ! بلکہ ان مسلمانوں کو سمجھایا جائے گا کہ آپ کے یہ اعمال اسلام کے مخالف ہیں، ان سے باز آجاؤ۔ کیا کوئی عالم برا کام کرے تو علم کو بھی خراب کہیں گے؟
ہاں اگر بعض جہلاء نے اپنی غلط حرکت کا نام تصوف رکھا ہے یا غیر شرعی کام کرنے کے باوجود وہ خود کو صوفی کہلاتے ہیں تو اس میں ان کا قصور ہے نہ کہ تصوف کا۔ فتفکّر یا اُولی الالباب۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ بے عمل اور جاہل صوفیوں کو تصوف کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے تاکہ سارے تصوف کو برا نہ کہا جائے۔
سوال نمبر 8:
حدیث مبارکہ میں ہے کہ ”لا رهبانیۃ فی الاسلام“ اور صوفی ازم بھی رہبانیت کی ہی تصویر ہے۔ لہٰذا اس کے لئے اسلام میں کوئی جگہ نہیں؟
جواب:
یہ کہنا کہ تصوف رہبانیت کی تصویر ہے عین جہالت ہے۔ رہبانیت میں تو حقوق العباد کا مکمل خاتمہ ہے، جبکہ تصوف حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی پوری طرح ادا کرنے کا درس دیتا ہے۔
سوال نمبر 9:
پیر و مرشد عوام سے جو بیعت لیتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور یہ بات کہاں تک درست ہے کہ جس کا کوئی پیر و مرشد نہ ہو، اس کا پیر و مرشد شیطان ہوتا ہے، جیسا کہ عوام میں مشہور ہے؟
جواب:
تصوف، تزکیہ نفس کا طریقہ ہے۔ آدمی روحانی اور باطنی اصلاح کی غرض سے کسی مرشدِ کامل، متبعِ سنت بزرگ کے ہاتھ پر گناہوں سے توبہ اور آئندہ اس کی راہنمائی میں دین پر چلنے کا عہد کرتا ہے، اس کو بیعت کہتے ہیں۔ صحابہ کرام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنا ثابت ہے۔ اصلاحِ نفس تو واجب اور ضروری ہے البتہ اس کے لیے کسی مرشدِ کامل کے ہاتھ پر بیعت ہونا مستحب ہے۔
سوال نمبر 10:
موجودہ دور مادی ترقی کا دور ہے، اس دور میں تصوف کے کونسے فوائد ہیں؟
جواب:
جو شخص اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اسلام ہر دور کی ضرورت ہے تو اس کو یہ بات بھی تسلیم کرنا پڑے گی کہ تصوف بھی ہر دور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تصوف اسلام کے مختلف اجزاء میں سے ایک اہم جزء ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقاصد میں تلاوتِ آیاتِ کلامِ الٰہی، تعلیمِ کتابِ الٰہی، تعلیمِ حکمت اور تزکیہ نفس کا تذکرہ بھی آتا ہے۔ جس طرح تعلیمِ کتاب کے بغیر اسلام نامکمل ہے، اسی طرح تزکیۂ نفس کے بغیر اسلام نامکمل ہے۔
تصوف کا بنیادی مقصد تزکیہ نفس کا حصول ہے جو کہ رضاءِ الٰہی، قربِ الٰہی اور دینی و دنیوی سعادت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ معلوم ہوا کہ تصوف کے بغیر کوئی انسان کامل مسلمان نہیں ہو سکتا۔ جب تک کوئی کامل مسلمان نہیں بنتا تب تک وہ کامل انسان بھی نہیں ہو گا۔
قارئین کے لیے پیغام:
پیارے قارئین!
تصوف دراصل دل کی صفائی، نفس کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا نام ہے۔ آج کے مادی دور میں جہاں لوگ ظاہری ترقی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، وہیں باطنی سکون اور روحانی خوشی صرف تزکیہ نفس سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر آپ نے اب تک کسی اچھے مرشدِ کامل کی تلاش نہیں کی تو ضرور کریں، لیکن یاد رکھیں کہ اصل مرشد قرآن و سنت کی روشنی میں چلنے والا ہو۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کے دلوں کو پاک فرمائے، ہمیں تصوف کی حقیقی روح سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں کامل مسلمان بننے کی ہدایت عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
