تصوف میں ظاہر و باطن اور شریعت سے آگے کیا ہے؟

 




تصوف میں ظاہر و باطن اور شریعت سے آگے کیا ہے؟
آج ہم تصوف کے دو اہم اعتراضات کا شرعی جواب دیکھتے ہیں۔


سوال نمبر 4:
تصوف میں ہر عمل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ا۔ ظاہری، ۲۔ باطنی۔ علم کی دو اقسام بیان کی جاتی ہیں، ا۔ ظاہری ۲۔ باطنی ۔ جبکہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو کچھ تھا ظاہر ہی تھا؟
جواب:
ظاہر اور باطن اہل تصوف کی ایک اصطلاح ہے۔ اور دونوں انواع کے احکامات قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں کثرت سے ہیں۔ مثلاً رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریا، بغض اور حسد رکھنے سے سختی سے منع فرمایا ہے، جبکہ ان باتوں کا تعلق صرف اور صرف انسان کے دل سے ہے۔ خود اللہ پاک نے اپنے کلام مقدس میں فرمایا:
يوم لا ينفع مال ولا بنون الا من اتى الله بقلب سليم (الشعراء)
“جس دن یہ مال کام نہیں آئے گا مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر۔”
قد افلح من تزكى و ذكر اسم ربہ فصلی۔ (الاعلی)
“بیشک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کر نماز پڑھی۔”
وغیرہ، تو ان باتوں کا تعلق صرف اور صرف باطن سے ہے۔ اہل تصوف کے ہاں ان اعمال کا علم جن کے ذریعے قلب سلیم اور تزکیۂ نفس حاصل ہو علم باطن کہا جاتا ہے۔
مثلاً نماز کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز پڑھتے وقت اپنا منہ کعبۃ اللہ کی طرف کریں، کپڑے پاک رکھیں وغیرہ، ان احکامات کا تعلق صرف ظاہری اعضاء کے ساتھ ہے۔ اور نماز کے متعلق ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ریا نہ ہو اور فرمایا ان تعبد الله کانک تراہ “خدا کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم خدا کو سامنے دیکھ رہے ہو”۔ ان احکام کا تعلق باطن سے ہے۔ اب صوفیاء کرام کا خیال یہ ہے کہ انسان کے باطن کی اتنی ترقی ہو کہ وہ ”ان تعبد الله کانک تراہ“ کے 
مقام کو حاصل کر سکے۔ اب ہر ذی شعور خود فیصلہ کرے کہ علم باطن بھی شرعی علم ہے کہ نہیں۔


سوال نمبر 5:
صوفیاء کرام کے پاس شریعت کے علاوہ کچھ دوسرے تصورات بھی ہیں، مثلاً طریقت، حقیقت، معرفت وغیرہ، جبکہ ایک مسلمان کے لئے صرف شریعت کی اطاعت ہی لازمی ہے اور شریعت ہی سب کچھ ہے۔ تو پھر حقیقت و معرفت کیا ہیں؟ ذرا وضاحت فرمائیں۔
جواب:
سب سے پہلے ان اصطلاحات کا مختصر طور پر مطلب سمجھ لینا چاہیے۔
شریعت: احکام تکلیفیہ کے مجموعے کا نام ہے۔
حقیقت: حقیقت سے مراد شریعت کی حقیقت ہے (حقیقتِ شریعت)۔
طریقت: اخلاقِ ذمیمہ اور اعمالِ رذیلہ سے قلب کی صفائی کا نام طریقت ہے۔ بالفاظِ دیگر طریقت، شریعت کی حقیقت معلوم کرنے اور حاصل کرنے کے طریقے کو کہتے ہیں۔
مثلاً نماز کے لئے مختلف قسم کے احکام وارد ہیں، بعض کا تعلق ظاہری اعضاء سے ہے اور بعض کا تعلق باطن سے ہے۔ اب کامل نماز وہ ہے جس میں ان تمام حقوق کی رعایت کی جائے اور جو نماز کا مقصد ہے اسے حاصل کیا جائے۔ ایک شخص نماز کے ظاہری احکامات کو پورا کرتا ہے، اس کے کپڑے پاک ہیں، جسم بھی پاک ہے، قبلہ کی طرف رخ بھی ہے وغیرہ۔ اب ظاہری طور پر تو ہم اس کو نمازی ہی کہیں گے، لیکن اگر اس کے دل میں ریا ہے یا اس کا دل نماز میں حاضر نہیں ہے تو حقیقت میں یہ شخص نمازی نہیں یا کم از کم اس کی نماز کامل نہیں ہے۔
اب اس نماز کو کامل بنانے کا حکم بھی شریعت میں موجود ہے۔ بزرگانِ دین نے ایسے طریقے وضع کیے ہیں جن کو اختیار کرنے سے دل میں خشوع و خضوع اور نیت کا اخلاص حاصل ہوتا ہے اور اس نماز کو حقیقی نماز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے حاصل کرنے کو حقیقت اور اس حقیقت تک پہنچنے کے لئے جو طریقہ وضع کیا گیا ہے اس کو طریقت کہتے ہیں۔
شریعت بندہ کا عبادتِ الٰہیہ کا التزام اور حقیقتِ رب کا مشاہدہ کرنا ہے۔ جو شخص وہ کرتا ہے جو پیغمبر نے کیا ہے وہ اہلِ شریعت میں سے ہے اور جو وہ کرتا ہے جو پیغمبر نے کہا ہے وہ اہلِ طریقت میں سے ہے اور جو شخص وہ دیکھتا ہے جو پیغمبر نے دیکھا ہے وہ اہلِ حقیقت میں سے ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں شریعت جنت کے جانے کا راستہ ہے اور طریقت براہِ راست رب تعالیٰ کی ذات تک جانے کا راستہ ہے۔
اس طرح طریقت اور حقیقت شریعت سے الگ نہیں بلکہ اسی کی تکمیل ہیں۔


قارئین کے لیے پیغام:

اگر آپ کو یہ مضمون مفید لگا تو ضرور لائک کریں، اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور کمنٹس میں اپنا سوال یا رائے ضرور لکھیں۔ بلاگ کو فالو کر لیں تاکہ نئے مضامین کی نوٹیفکیشن بروقت ملتی رہے۔
کل ہم تصوف کے چند اور اہم سوالات کے جوابات پر گفتگو کریں گے ،ان شاء اللہ۔ اس لیے بلاگ کو ضرور فالو رکھیں!
جزاک اللہ خیرًا۔ 




Post a Comment

Previous Post Next Post

Search This Blog