بیعتِ طریقت: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک سنتِ نبوی ﷺ



بیعتِ طریقت: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک سنتِ نبوی ﷺ:

صوفیاء کرام کی بہت سی چیزوں پر لوگوں کو اعتراض ہے, ان میں سے ایک اہم اعتراض بیعت پر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بیعت 
صوفیاء کے ہاں لازم نہیں، مگر اس کا ثبوت قرآن و حدیث سے بالکل واضح اور صریح ہے۔


بیعت کا ثبوت قرآن و حدیث سے:

قرآن پاک میں سورۃ الممتحنہ میں ارشاد ہے:
یا ایها النبى اذا جاءک المومنات یبایعنک (الآیة)۔
بیان القرآن میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس آیت کے ذیل میں فرمایا کہ بیعت کی غرض میں یہ آیت صریح ہے اور اس سے بیعت رسمی کا ابطال لازم آتا ہے جس میں عمل کا اہتمام نہ ہو۔ 

اسی طرح سورۃ الفتح کی آیت نمبر 10 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ ۖ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ
یعنی جو لوگ آپ ﷺ سے بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
اس آیت سے بیعت کی عظمت واضح ہوتی ہے کہ شیخِ کامل کے ہاتھ پر بیعت کرنا دراصل اللہ تعالیٰ سے عہد و پیمان ہے۔

بخاری شریف کی کتاب الایمان میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب سے بیعت لی:
بايعوني على ان لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا... (الحدیث)۔
اس حدیث میں بعض منہیات اور منکرات کے چھوڑنے پر بیعت لی گئی۔ یہ نہ بیعتِ اسلام تھی، نہ بیعتِ جہاد، بلکہ وہی بیعتِ طریقت ہے جو امورِ اسلام پر تاکید اور اصلاحِ نفس کے لیے کی جاتی ہے۔

اسی طرح بخاری شریف میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
بايعتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم على إقام الصلاة وإيتاء الزكاة والنصح لكل مسلم
یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔
اس طرح بہت سی احادیث مشہورہ میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگ بیعت کرتے تھے — کبھی ہجرت اور جہاد پر، کبھی ارکانِ اسلام کے قائم کرنے پر، کبھی کفار کے مقابلے میں ثبات و قرار پر، اور کبھی سنتِ نبوی ﷺ کے تمسک پر۔
بعض لوگوں کا گمان ہے کہ بیعت صرف خلافت و سلطنت قبول کرنے تک محدود ہے، اور اہلِ تصوف کی بیعت کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہ گمان فاسد ہے، کیونکہ مذکورہ احادیث سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ امورِ شرعیہ اور اصلاحِ نفس پر بھی اپنے اصحاب سے بیعت لیتے تھے۔


امت میں اختلاف کا پہلو: امت میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ بعض علماء (جو بیعت کو صرف سیاسی اور خلافت کے معنی میں دیکھتے ہیں) بیعتِ طریقت کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بیعتِ خلافت (بیعتِ امارت) اور بیعتِ سلوک/اصلاح دو الگ چیزیں ہیں۔ بیعتِ خلافت سیاسی اور اجتماعی ہے، جبکہ بیعتِ طریقت توبہ، تزکیۂ نفس اور اللہ کی طرف رجوع کے لیے ہے، جو صحابہ کرامؓ سے لے کر آج تک سنت رہی ہے۔

اس اعتراض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں بیعت کا یہ سلسلہ احتیاطاً بند رکھا گیا تاکہ بیعتِ خلافت سے اشتباہ ہو کر فتنہ نہ پیدا ہو۔ اس دور میں خرقہ دینا قائم مقام بیعت بن گیا۔ جب بادشاہوں کے دور میں خلافت کی بیعت متروک ہو گئی تو صوفیاء نے اس فرصت کو غنیمت سمجھا اور بیعت کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔
حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے القول الجمیل کے ترجمہ شفاء العلیل میں اس بات کو نہایت عمدہ اسلوب سے بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ بعض نادان کہتے ہیں کہ قادریہ، چشتیہ اور نقشبندیہ کے مخصوص اشغال صحابہ و تابعین کے زمانے میں نہیں تھے تو بدعت سیئہ ہیں۔ خلاصہ جواب یہ ہے کہ جس امر کے واسطے اولیاءِ طریقت نے یہ اشغال مقرر کیے ہیں، وہ امر زمانۂ رسالت سے اب تک برابر چلا آیا ہے۔ البتہ اس کے حاصل کرنے کے طریقے مختلف ہیں۔ جس طرح مجتہدین نے ظاہری مسائل کا استنباط کر کے اصول وضع کیے جنہیں شریعت کہتے ہیں، اسی طرح اولیاء اللہ نے باطن کی صفائی کے لیے کچھ اصول وضع کیے جنہیں طریقت کہا جاتا ہے۔ تو یہاں بدعت سیئہ کا گمان سراسر غلط ہے۔ صحابہ کرامؓ کو طبیعت کی صفائی اور حضور ﷺ کی براہ راست صحبت کی وجہ سے ان اشغال کی حاجت نہ تھی، بخلاف متاخرین کے کہ انہیں دوری کی وجہ سے اشغال کی ضرورت پیش آئی۔ مثال ایسی ہے کہ جب تک آفتاب طلوع ہو تو سب کچھ پڑھا جا سکتا ہے، جب غروب ہو جائے تو روشنی کی ضرورت پڑتی ہے۔ صحابہ کے دور میں آفتابِ رسالت ﷺ طلوع تھا، اس لیے حضورِ مع اللہ کے لیے اشغال کی ضرورت نہ تھی۔ اب چونکہ وہ آفتاب غروب ہو چکا ہے، اس لیے ملکۂ حضور کے لیے اشغال کی ضرورت پیدا ہو گئی۔
حضرت شیخ الحدیث صاحب فرماتے ہیں کہ جو لوگ بیعت اور ان مشاغل کو بدعت کہتے ہیں، وہ دراصل بدعت کی تعریف سے واقف نہیں۔ بدعت احداث فی الدین کا نام ہے، نہ کہ احداث للدین کا۔ جو لوگ ان دونوں میں فرق نہیں کر سکتے وہ دین سے ناواقف ہیں۔ احداث للدین بسا اوقات ضروری بلکہ واجب ہو جاتا ہے، جیسے جہاد کے آلات — پہلے تیر و تلوار کافی تھے، مگر اب ان پر اکتفا کرنا ہلاکت ہے۔ بندوق، توپ، ٹینک حتیٰ کہ جدید آلات ضروری ہو گئے ہیں۔
مشائخ متقدمین و متاخرین کی کتابوں میں کثرت سے مذکور ہے کہ حضورِ ملکی کی زیارت ہی مرتبۂ احسان تک پہنچانے کے لیے کافی تھی، مگر حضور ﷺ کے بعد جوں جوں زمانہ گزرتا گیا، نورانیت سے دوری ہوتی گئی اور ظلمات کا اثر قلوب پر پڑتا گیا۔


کیا شیخ کی صحبت ضروری ہے؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اصلاح کے لیے کسی شیخ کی صحبت بھی ضروری ہے یا صرف بیعت کر کے خود اشغال کی پابندی کافی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کی اصلاح کے لیے اصل چیز صحبت ہی ہے۔ بغیر صحبت کے اپنی اصلاح کی کوشش کرنا ایسا ہے جیسے بغیر پیٹرول کے گاڑی چلانے کی کوشش۔ اکیلا آدمی شیطان کا ورکشاپ اور کھلونا بن جاتا ہے۔ بزرگوں کی صحبت میں دین و آخرت کے تذکرے ہوتے ہیں، قدم قدم پر نظر رکھی جاتی ہے تو منکرات سے بچنا اور معروفات کی طرف رغبت آسان ہو جاتی ہے۔
قرآن کریم نے بھی جابجا اس کی رہنمائی کی ہے۔ سورۃ لقمان آیت 15 میں ہے: واتبع سبيل من اناب الی — جو لوگ میری طرف متوجہ ہیں، ان کی اتباع کرو یعنی تعلق اور صحبت ان سے رکھو۔
سورۃ کہف آیت 28 میں ہے: واصبر نفسک مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشى يريدون وجھہ — صحبت اتنی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی صحبت کو اصحاب کی تربیت و اصلاح کے لیے ضروری قرار دیا، حالانکہ وہ اہل عرب تھے، قرآن خود پڑھتے اور سمجھتے تھے۔
سورۃ توبہ آیت 119 میں ہے:" یا ایها الذين أمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقین "تقویٰ حاصل کرنے کا طریقہ بتایا گیا کہ سچوں کی معیت اور صحبت اختیار کرو۔ ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ صالحین اور کاملین کی صحبت کے بغیر اصلاح عادۃً ناممکن ہے۔


بیعت کا حکم:

بیعت سنت ہے، اس لیے کہ صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے بیعت کی اور اس کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کیا۔ کوئی شرعی دلیل نہیں کہ بیعت نہ کرنے والا گنہگار ہو، اور نہ ہی ائمہ نے تارکِ بیعت پر نکیر کی ہے۔
میرے شیخ حضرت خاکوانی مدظلہ فرماتے ہیں کہ اپنی اصلاح واجب، توبہ فرض اور پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا اور اصلاح کرانا سنت ہے۔ البتہ حضرت تھانویؒ فرماتے تھے کہ فتنوں کی کثرت اور لوگوں کی حالت دیکھ کر میں فتویٰ دیتا ہوں کہ اللہ والوں کی صحبت میں بیٹھنا اور ان سے اصلاح کا تعلق قائم کرنا اس زمانے میں فرض عین ہے، کیونکہ اس سے ایمان بچتا ہے۔


شیخ کی شرائط:

 بیعت کسی بھی شخص سے نہیں ہوتی۔ شیخ وہ ہونا چاہیے جو شریعت کا کامل پابند ہو، تقویٰ اور عدالت میں پختہ ہو، بدعات اور کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہو، صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرتا ہو، دنیا سے بے رغبت اور آخرت سے رغبت رکھتا ہو۔ حضرت تھانویؒ نے تسہیل قصد السبیل وغیرہ میں ان شرائط پر زور دیا ہے۔


قارئین کے لیے پیغام:
اگر آپ بھی اپنے ایمان کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں، نفس کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قریب ہونا چاہتے ہیں تو آج ہی ایک قابلِ اعتماد، شریعت کا پابند اور متقی شیخِ کامل کی تلاش کریں۔ ان کی صحبت اختیار کریں، ان کے ہاتھ پر بیعت کریں اور باقاعدگی سے ان کی رہنمائی میں اشغال و اذکار پر عمل کریں۔
یاد رکھیں، اکیلا چلنے کی کوشش اکثر شیطان کے جال میں پھنسنے کا باعث بنتی ہے، جبکہ صالحین کی صحبت میں قدم قدم پر حفاظت اور ترقی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سلوک کی راہ پر چلنے، اپنی باطنی اصلاح کرنے اور حضور ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

نوٹ :کل سے ان شاء اللہ ہم تصوف اور بیعت کے موضوع پر کچھ اہم سوالات اور ان کے جوابات پر گفتگو کریں گے۔ اگر آپ کے ذہن میں بھی کوئی سوال ہے تو کمنٹس میں ضرور لکھیں، ان شاء اللہ اگلے مضامین میں ان کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔



Post a Comment

Previous Post Next Post

Search This Blog