تصوف اور بیعت: شرعی حیثیت اور حقیقت
اگر آپ تصوف اور بیعت کے بارے میں غلط فہمیوں سے نجات پانا چاہتے ہیں تو اس سیریز کو
مکمل پڑھیں۔
یہ "تصوف اور بیعت: شرعی حیثیتت اور حقیقت کیا ہے؟" سیریز کا پہلا حصہ ہے۔
اس سیریز میں ہم تصوف کی تعریف، بیعت کی حقیقت اور دونوں کے شرعی احکام کو آسان زبان میں سمجھیں گے۔
اس حصے میں تصوف کیا ہے اور اس کی لغوی و اصطلاحی تعریف پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔
تعریف سے پہلے ایک اہم نکتہ :کیا تصوف صرف ایک خاص لباس پہننے یا دنیا سے الگ تھلگ رہنے کا نام ہے، یا یہ قلب کی گہرائیوں میں اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کا ایک مکمل نظام ہے؟
آج کے اس مادیت پرست دور میں جب لوگ تناؤ، بے چینی اور روحانی خلا کا شکار ہیں، بہت سے لوگ تصوف کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ لیکن اکثر لوگوں کے ذہن میں تصوف کے بارے میں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اسے صرف صوف کے لباس سے جوڑتے ہیں تو کچھ اسے شریعت سے الگ سمجھتے ہیں۔
دراصل تصوف اسلام کا وہ حسنِ باطن ہے جو ظاہری احکام کی پابندی کے ساتھ ساتھ دل کی صفائی، اخلاق کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالص تعلق قائم کرنے کا نام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" (اس نے کامیابی حاصل کی جس نے اپنے نفس کو پاک کیا)۔ یہی تزکیۂ نفس تصوف کی بنیاد ہے۔
اس مضمون میں ہم تصوف کی لغوی تعریف اور اصطلاحی تعریف پر تفصیل سے بات کریں گے۔ مختلف علماء کرام کے اقوال کے ذریعے سمجھیں گے کہ "صوفی" لفظ کس طرح وجود میں آیا اور تصوف سے کیا مراد ہے۔
:تصوف کی لغوی تعریف
اشتقاق کے اعتبار سے تصوف کے لغوی معنی میں علمائے اسلام کا سخت اختلاف رہا ہے۔ ان میں سے چارا قوال پیش خدمت ہیں۔
1.
عام طور پر صوفی کے لفظ کو ” صوف“ سے مشتق مانا جاتا ہے۔ ابن خلدون کا یہی قیاس ہے۔ عربی لغت کے اعتبار سے تصوف کے معنی ہیں ” اس نے اون کا لباس پہنا“ جیسے "تقمص" کے معانی ہیں اس نے قمیض پہنی۔ ابتدا میں صوفیاء کو ان کی صوف پوشی کی وجہ سے صوفی کہا جاتا تھا، لیکن صوفیاء صرف صوف پوشی کے ساتھ مخصوص و مختص نہیں اور نہ ہی صوف پوشی ہی اہل معرفت کی پہچان ہو سکتی ہے۔
2.
صوفی صفا سے مشتق ہے اور صفا سے مراد قلب کی صفائی ہے۔ صوفی کو صوفی اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کا قلب باطنی بیماریوں سے صاف ہوتا ہے۔
3۔
صوفی صف سے مشتق ہے۔ صف سے مراد صف اول ہے۔ چونکہ صوفیاء کرام اللہ تعالیٰ کے نزدیک صف اول کے بندے ہیں اس وجہ سے ان کو صوفی کہا جاتا ہے۔
4۔
صوفی صفہ سے مشتق ہے۔ صفہ سے مراد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا صفہ ہے۔ یہ لفظ اہل صفہ کی طرف منسوب ہے۔ اہل صفہ وہ چند صحابہ کرام تھے جنہوں نے اپنے آپ کو دنیوی معاملات سے علیحدہ کر کے رسول اللہ کی بارگاہ کے لئے وقف کر دیا تھا، چونکہ صوفیاء کرام کی زندگی میں اصحاب صفہ کی زندگی کی جھلک موجود ہوتی ہے، اس وجہ سے ان کو صوفی کہا جاتا ہے۔
راجح قول:یہی ہے کہ لفظ صوفی ”صوف“ سے مشتق ہے کیونکہ لغوی اعتبار سے یہ لفظ اپنے مادہ کے زیادہ قریب ہے، لیکن اسلامی انسائیکو پیڈیا میں بحوالہ رسالہ قشیریہ مذکور ہے کہ صوفی کی وجہ تسمیہ میں کوئی ایک پہلو ملحوظ نہیں بلکہ وہ تمام پہلو ملحوظ ہیں جن کی طرف اس لفظ سے اشارہ ملتا ہے۔ اگر اس لفظ کا صرف ایک پہلو ملحوظ رہتا تو صوفیاء کرام اس لفظ کو اپنے لئے مخصوص نہ بناتے، بلکہ صوفی کا لفظ ان تمام حالات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو صوفی کے لفظ یا مناسبت سے ہے۔
:تصوف کی اصطلاحی تعریف
،تصوف کی تعریف مختلف بزرگان دین سے مختلف نقل کی گئی ہے
حضرت ابوالحسن ندوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: التصوف ترک کل حظ للنفس ، تصوف تمام لذات نفسانی کو ترک کرنے کا نام ہے۔
حضرت ابوعلی قزوینی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے : التصوف هو الاخلاق المرضية تصوف پسندیدہ اخلاق (کو اختیار کرنے کا نام ہے۔“
ابو محمد جریری رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے : التصوف الدخول في كل خلق سني والخروج من كل خلق دنى تصوف ہر اخلاق حمیدہ کو اختیار کرنے اور ہر اخلاق ( شنیعہ ) رذیلہ کو ترک کرنے کا نام ہے۔
حضرت کتابی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: التصوف خلق فمن زاد عليك فى الخلق فقد زاد عليك فى الصفالنا ”تصوف اچھے اخلاق کا نام ہے ، سو جس کے اخلاق تیرے اخلاق سے زیادہ عمدہ ہیں وہ صفا ( تصوف و قلبی صفائی ) میں بھی تجھ سے زیادہ ہے
حضرت عباسی مدنی تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں: التصوف هو علم تعرف بہ احوال التزکیہ النفوس و تصفیه الاخلاق و تعمیر الظاهر و الباطن و نيل السعادة الابدية، ( یہ تعریف شیخ الاسلام ابویکی از کر یا انصاری سے بھی منقول ہے )
تصوف وہ علم ہے ، جس سے تزکیہ نفس و تصفیہ اخلاق کے احوال اور ظاہر وباطن کی تعمیر کے احوال اور ابدی سعادت کے حصول کے احوال معلوم کئے جاتے ہیں۔
حضرت شیخ الحدیث فرماتے ہیں : حضرت جبرئیل کے سوال میں ایک احسان تھا، اسی احسان کی صفت کے حصول کا نام تصوف ہے۔
تمام تعریفات سے یہ معلوم ہوا کہ تمام اخلاق حسنہ کو اختیار کرنے، تمام اخلاق رذیلہ کو ترک کرنے با لخصوص ظاہر کے ساتھ باطن کی اصلاح اور تعلق مع اللہ قائم کرنے، دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے اور ہر معاملہ میں رضائے الہی کی طلب اور اس پر راضی رہنے کو تصوف کہا جاتا ہے۔
:نتیجہ
اس حصے میں ہم نے تصوف کی لغوی تعریف اور اصطلاحی تعریف پر تفصیل سے بات کی۔ لغوی اعتبار سے "صوفی" لفظ کے مختلف اشتقاقات (صوف، صفا، صف اور صفہ) پر علماء کا اختلاف رہا ہے، لیکن راجح قول یہ ہے کہ یہ لفظ "صوف" سے نکلا ہے، جبکہ اس کی وجہ تسمیہ میں ایک سے زیادہ پہلوؤں کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
اصطلاحی طور پر تصوف مختلف اکابرین نے مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے، لیکن تمام تعاریف کا خلاصہ ایک ہی نکلتا ہے: تزکیۂ نفس، اخلاق کی اصلاح، باطن کی صفائی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ خالص تعلق قائم کرنا۔ یہ کوئی الگ دین یا شریعت سے ماورا چیز نہیں، بلکہ اسلام کا حسنِ باطن ہے جو ظاہری احکام کی پابندی کے ساتھ دل کو اللہ کی طرف جھکا دیتا ہے۔
:قاری کے لیے پیغام
تصوف کی حقیقی روح دنیا سے بھاگنا یا خاص لباس پہننا نہیں ہے۔ اس کی اصل روح قلب کی صفائی، نفس کی تربیت اور رضائے الٰہی کی تلاش ہے۔ آج کے اس مادیت پرست دور میں جہاں لوگ بے سکونی اور روحانی خلا کا شکار ہیں، تصوف ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی سکون اللہ سے دور ہو کر نہیں بلکہ اس کے قریب ہو کر ہی مل سکتا ہے۔
:اگلے حصے کا ٹیزر
ان شاء اللہ اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ لفظ "صوفی" کب سے استعمال ہونے لگا، تصوف کی تاریخی جڑیں کیا ہیں اور یہ نبی کریم ﷺ کے زمانے سے کیسے چلا آ رہا ہے۔
جلد ہی حصہ 2 شائع ہو جائے گا۔ اس سیریز کو فالو کرنے کے لیے بلاگ کو سبسکرائب کریں یا نوٹیفکیشن آن رکھیں۔
اگلے حصے میں ان شاء اللہ ملاقات ہوگی۔
